الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مقررہ خطیب وامام کی موجودگی میں بلا اجازت کسی عالم کا امامت وخطابت کرنا!

سوال

احقر ایک عرصہ سے جامع مسجد کیوڑائی پر خدمت امامت انجام دے رہا ہے۔ احقر کی عین تمنا ہے کہ خدمات شرعیہ امامت وخطابت ودرسیات تا حد معلومات انجام دوں، حالانکہ احقر ملازم سرکاری دواخانہ ہے۔ احقر گورنمنٹ میں اپنی رضا سے وظیفہ پر سبکدوشی کی درخواست دے کر متفقہ رخصت پر مستقر پر کام کرتا رہا پھر خادم زادہ عبدالغنی کے کام امامت اور مدرسہ کا سپرد کر کے جائے ملازمت پر چلا گیا، ہفتہ دو ہفتہ میں ایام تعطیلات میں مستقر پر آ کر مدرسہ کی نگرانی کرتا ہوں۔ جب مستقر پر آتا ہوں امامت بھی کر لیتا ہوں۔

جواب

جس شخص کو خطیب وامام مقرر کر دیا جائے بغیر وجہ شرعی کے اس کو الگ کرنا غلط ہے اور اس کی موجودگی میں بغیر اس کی اجازت کے کسی عالم کا خود بخود امامت وخطابت پر قبضہ کرنا درست نہیں۔ غلط طریقہ ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو