غصہ اور جھنجھلاہٹ کی وجہ سے قرآت طویل کرنا!
سوال
امام کی طبیعت میں تکدر ہے بعض دفعہ حالت خفگی میں قرآت اس قدر طویل کرتے ہیں کہ جس سے مقتدی تکلیف محسوس کر کے یہ ارادہ کرنے لگتے ہیں کہ نیت توڑ کر بھاگ جائیں امام کا یہ فعل کیسا ہے؟
جواب
کسی جھنجھلاہٹ یا خفگی کی وجہ سے قراءت طویل کرنا غلط ہے ایسا نہیں چاہئے، مقتدیوں کے حال کی رعایت رہنی چاہئے کہ ان میں بوڑھے ضعیف بیمار سب قسم کے لوگ ہوتے ہیں شریعت نے اس کی رعایت رکھتے ہوئے طوال، اوساط، قصار کی قراءت تجویز کی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔