الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے والے کی امامت وتراویح

سوال

زید ایک گاؤں میں امامت کرتا ہے صوم وصلوٰۃ کا پابند ہے اس سال بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھے، مگر امامت کرتا رہا اور تراویح بھی پڑھاتا رہا کسی نے کہا کہ امام صاحب تراویح پڑھا نہیں سکتے کیوں کہ روزہ نہیں رکھ رہے ہیں۔ اب اس گاؤں یا اطراف وجوانب میں اس لائق آدمی نہیں جو امامت کرے تو اس صورت میں زید کا امامت کرنا جائز ہوگا، یا اگر دوسرا کوئی امامت کے لائق ہے مگر امام نہیں یہی امام مقرر ہے اس صورت میں کہ زید روزہ سے نہیں ہے امامت کر سکیں گے؟

جواب

جو شخص مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے اللہ پاک نے اس کو مہلت دی ہے کہ پھر بعد میں رکھے اس کو مجرم قرار نہیں دیا کہ اس کی امامت کو نا جائز قرار دیا جائے، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ (الآية) لہذا زید مذکور کی امامت فرض وتر تراویح سب میں درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو