قرآن سے فال نکالنے والے آدمی کی امامت
سوال
قرآن کے ذریعہ فال کھولنا جائز ہے یا ناجائز؟ اور ایسے عامل کی امامت جائز ہے یا نہیں؟ اسی طرح دوسرے ذرائع سے فال کھولنا کیسا ہے؟ اور سگریٹ نوشی کرنے والے کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب
قرآن شریف یا کسی اور کتاب سے فال کھول کر اس کو حجت شرعیہ سجھنا اور اس پر حق وباطل کا فیصلہ رکھنا صحیح نہیں غلط ہے۔ حق اور باطل کے فیصلے کے لئے شرعی دلائل کی ضرورت ہوتی ہے محض رجحان قلبی کے لئے اگر فال لی جائے تو مضائقہ نہیں۔ ایسے شخص پر کوئی سخت حکم نہیں لگے گا اور نہ اس کی امامت میں کوئی خرابی آئے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔