قد قامت الصلواۃ کی تاء پر کیا حرکت پڑھیں
سوال
ایک شخص کہتا ہے کہ” قد قامت الصلوةُ قد قامت الصلوةُ “پڑھا جاۓ گا، اس کے خلاف نہیں ورنہ اقامت ادا نہ ہوگی، دوسرا شخص کہتا ہے کہ ” قد قامت الصلوة “ پڑھا جائیگا، یعنی تا کسرہ کے ساتھ پڑھی جائے گا، ایک فریق دوسرے فریق کو کہتا ہے کہ تمہارے طریقے کے مطابق اقامت ادا نہ ہوگی تو اب کس فریق کا اعتبار کیا جائے، اور صحیح کیا ہے؟
جواب
آخر والی تا، وقف وسکتہ کی حالت میں ہا ہو جائے گی، لہذا اس پر نہ پیش پڑھا جائیگا، نہ زیر، أصل کے اعتبار سے اس پر پیش تھا، جب کہ اس پر وقف وسکتہ نہ ہو سکتہ کے بعد وہ ساکن ہے، زیر غلط ہے، ترکیب نحوی کے اعتبار سے” الصلوۃ، قد قامت کا فاعل ہے، جس پر پیش آئیگا، زیر غلط ہے، غلط سے پورا اجتناب کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔