الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اقامت میں التفات ہے یا نہیں؟

سوال

مؤذن اذان کہتے وقت حی علی الفلاح، حی علی الصلوۃ میں جس طرح منہ دائیں بائیں پھیر لیتا ہے، کیا اس طرح اقامت میں بھی حی علی الصلوۃ وحی علی الفلاح پر منہ دائیں بائیں پھیر لے۔ مولانا عبدالشکور صاحب لکھنوی رحمہ اللہ نے علم الفقہ ص ۱۰ ج ۲ میں صرف اذان میں حی علی الصلوۃ وحی علی الفلاح پر منہ دائیں بائیں پھیرنے کو مسنون لکھا ہے۔ لیکن صاحب در مختار دونوں کو مسنون کہتے ہیں، ان کی عبارت یہ ہے۔ ويلتفت فيه وكذا فيها مطلقاً (كتاب الصلاة باب الاذان) صحیح مسئلہ کیا ہے؟ وضاحت فرمائیں۔

جواب

اس میں دونوں قول ہیں، بعض نے کہا ہے کہ اگر جگہ بڑی ہو تو دونوں طرف پھرا لے ورنہ نہیں۔ وأطلق في الالتفات ولم يقيده بالاذان وقدمنا عن القنية ان يحول في الاقامة أيضاً وفي السراج الوهاج لا يحول فيها لأنها لاعلام الحاضرين بخلاف الاذان فانه اعلام للغائبين وقيل يحول إذا كان الموضع متسعاً الخ ص ۲۵۸ ج ۱.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو