الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حی علی الصلوۃ پر کھڑا ہونا، امام ومقتدی نماز با جماعت کیلئے کس وقت کھڑے ہوں؟

سوال

مرتبه: حضرت مولانا مفتی حافظ محمد لقمان صاحب قادری ربانی نائب شیخ الحدیث دارالعلوم ربانیہ باندہ یوپی۔ سوال: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اقامت شروع ہوتی تھی تو ہم لوگ کھڑے ہو جاتے تھے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حجرے سے نکلنے سے پہلے صفوں کی درستگی کر لیتے تھے، یہ حدیث مسلم شریف میں (ص۲۲۰ پر) ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حی علی الفلاح کے وقت کھڑے ہونے پر صفوں کی درستگی نہیں ہو سکے گی جس کی احادیث میں تاکید آئی ہے۔ مذکورہ بالا حدیث کی بناء پر ابتداء اقامت ہی پر کھڑا ہو جانا ثابت نہیں ہے۔

جواب

یہ مسئلہ نہ فرائض میں سے ہے نہ واجبات میں سے نہ سنن مؤکدہ میں سے بلکہ مستحبات میں سے ہے اور کسی مستحب چیز پر ایسا اصرار کرنا جیسا کہ واجب پر کیا جاتا ہے درست نہیں بلکہ اس سے اس کا استحباب ختم ہو کر اس میں کراہت آجاتی ہے۔ الاصرار على المندوب يبلغه الى حد الكراهة سباحة الفکر اور مسئلہ میں بھی تفصیل ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو