ابن ماجہ کی ایک روایت کا مطلب
سوال
ابن ماجہ میں ص ۱۳ ر پر فضل علی ابن ابی طالب کے ذیل میں یہ روایت درج ہے۔ عن عبد الرحمن بن ابی لیلی قال كان ابوليلي يسير مع على فكان يلبس ثياب الصيف وثياب الشتاء فقلنا لو سألته فقال ان رسول الله وانا الخ۔ يسير اور فکان کے اوپر نشان سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کی ضمیر کا مرجع ایک ہے یعنی ابی لیلیٰ، جو قطعاً غلط ہے۔ اس لئے کہ ترجمۃ الباب سے مناسبت نہیں ہوتی۔ دوسرے یہ کہ معنی بھی مختل ہو جاتا ہے۔ میں نے یہ سمجھا ہے کہ دونوں کا مرجع ایک نہیں ہے۔
جواب
فضل علی ابن ابی طالب والی حدیث میں یسیر اور فکان پر نشان ضمیر کا مرجع بتانے کے لئے نہیں بلکہ نسخہ کا نشان ہے چنانچہ یسیر میں دوسرا نسخہ یمر ہے اور فکان میں دوسرا نسخہ وکان ہے۔ حاشیہ میں نسخہ موجود ہے۔ اس قسم کا نشان کتب حدیث بخاری شریف وغیرہ میں بکثرت ہوتا ہے ان کا یہی مطلب ہوتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔