مصافحہ سے متعلق حدیث
سوال
مصافحہ دونوں ہاتھ سے مسنون ہے تو کس طرح، حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر ہاتھ کی کف دست دوسرے ہاتھ کی کف دست سے ملے اور یہ اس صورت میں ممکن ہے کہ جب ہر ہاتھ کو الگ الگ ملائے لیکن مروجہ طریقہ کہ فریقین میں سے ہر ایک کی ایک ہاتھ کی دوسرے ہاتھ سے ہتھیلی ملے اور دوسرے ہاتھ کی کف دست اوپر کی جانب رہے یہی رائج ہے۔ یعنی دونوں کے دائیں ہاتھ کی کف دست ملتی ہیں اور دونوں کے بائیں ہاتھ کی کف دست دوسرے ہاتھ کے ظہر پر ہوتی ہے۔ اس کا ثبوت کہاں سے ملتا ہے۔
جواب
بخاری شریف میں عبداللہ ابن مسعود کی روایت مذکور ہے وكان كفى بين كفيه الخ اس سے معلوم ہوا کہ صحابی کا ایک ہاتھ حضور اقدس ﷺ کے دونوں ہاتھوں میں تھا اس صورت میں کف دست کا کف دست سے ملنا بالکل واضح ہے البتہ دوسرا ہاتھ پشت دست پر ہوگا اور صحابی نے اپنے دوسرے ہاتھ کا ذکر نہیں کیا ظاہر یہ ہے کہ انکا دوسرا ہاتھ نبی کریم کے داہنے دست مبارک کی پشت پر تھا جیسا کہ آج کل علماء متبعین کا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔