صاحب الورد وتارك الورد (الحديث)
سوال
ایک کتاب ہے جناب حاجی محمد زردار خاں صاحب کی تالیف شدہ کتاب مذکور چند جزئیات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کے ص ۱۷۱ مرغوب القلوب، شمس تبریز، جزء میں یہ حدیث شریف قدسی کے عنوان سے مکتوب ہے۔ ظاہری الفاظ سے حدیث صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ بندہ کا ناقص فہم اسی کا قائل ہے۔ اگر بفرض محال حدیث مکتوب صحیح العبارۃ ہو تو اس کے کیا معنی ہیں؟ اور احادیث کی کون سی کتاب میں ہے مدلل جواب مطلوب ہے۔
جواب
میں نے کسی حدیث کی کتاب میں یہ عبارت بعنوان حدیث نہیں دیکھی۔ ظاہری مفہوم کے لحاظ سے اس کو حدیث کہنا بھی صحیح نہیں۔ بعض الفاظ بالکل حدیث صحیح کے خلاف ہیں۔ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلوةِ مَكْتُوبَةٍ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الحديث مشكوة شريف ص ۸۸۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔