حضرت مسیح کی فضیلت كَلِمَتُهُ وَرُوحٌ مِنْهُ سے
سوال
قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ اِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ الْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ۔ اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کو ایک تو کلمہ کہا گیا ہے یہ تو اس معنی کر کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کن کہہ کر پیدا فرمایا ہے اور کن اللہ تعالیٰ کا کلمہ تخلیقی ہے۔
جواب
اگر یہ تقریر عیسائی معترض کی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن کریم وحدیث شریف کو بھی مانتا ہے پھر اس نے مجتہدانہ استنباط سے اشکال کیا ہے تو اس کو چاہیے کہ قرآن کریم کی جو تفصيل و تشریح حضرت نبی اکرم ﷺ نے فرمائی ہے اور حضرت نبی اکرم کے افضل الرسول ہونے کی جو روایات حدیث میں موجود ہیں ان سب کے ہوتے ہوئے ہرگز ہرگز استنباط واجتہاد سے کام نہ لے کیونکہ نص صریح کے مقابلہ میں اجتہاد کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔