الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ کا مطلب

سوال

قرآن پاک کی آیت لَئِن شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ ہے۔ اور آدمی کو جب تکلیف ہوتی ہے تو وہ بھی ایک نعمت خداوندی ہے۔ اس پر اگر شکر کرے گا تو اس کے اندر زیادتی ہوگی۔ حالانکہ انسان یہ نہیں چاہتا کہ میں ہر وقت تکلیف میں مبتلا رہوں۔ اس صورت میں اس آیت شریفہ کا کیا مطلب ہوگا؟

جواب

اصل نعمت اجر و ثواب ہے تکلیف، رنج، مرض، مشقت پر صبر بھی اس کا ذریعہ ہے۔ راحت، صحت، شادمانی، عافیت پر شکر بھی اسکا ذریعہ ہے ایک ذریعے سے بچ کر دوسرا ذریعہ اختیار کرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک مقصد تک پہنچنے کے دو راستے ہوں ایک آسان دوسرا دشوار۔ دشوار کو چھوڑ کر آسان اختیار کرنا مذموم نہیں لہذا تکلیف کا علاج بھی مشروع بلکہ مسنون ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو