الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

”قال هي عصاي“ کی عجیب تشریح و تفسیر

سوال

واعظ زید نے وعظ کرتے ہوئے حسب ذیل آیت وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَى قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّوا عَلَيْهَا وَأَهُشُ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَارِبُ أُخْرَى تاسيرتها الاولیٰ (طه) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ایک جلیل القدر نبی کے ساتھ ناشائستہ لفظوں کو منسوب کر دیا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے کہا موسیٰ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے۔ موسیٰ نے کہا عصا۔

جواب

جو بات اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا بڑی غلطی و جرأت ہے، بہتان ہے۔ آئندہ ہرگز ایسا نہ کیا جائے۔ بغیر علم کے وعظ ہرگز نہ کہا جائے ہاں کوئی معتبر کسی عالم حقانی کی کتاب ہو جس کے مضامین بیان کرنے اور سنانے کی واعظ میں صلاحیت ہو اور مجمع میں سننے اور سمجھنے کی صلاحیت ہو اس کتاب کے سنانے میں مضائقہ نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو