الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حضرت آدم علیہ السلام سے متعلق دو آیتوں میں تعارض

سوال

آیت ۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کو دونوں باتیں یاد تھیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے دو باتیں فرمائی تھیں ایک یہ کہ اس درخت کے قریب نہ جاؤ دوسری یہ کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اور شیطان نے دونوں باتیں بتادیں کہ اس درخت کے کھانے سے یہ یہ فوائد ہیں اور دوسرے یہ کہ میں تمہارا دشمن نہیں ہوں بلکہ تمہارا دوست ہوں تو صاف ظاہر ہے کہ دونوں باتیں یاد تھیں، ان دونوں میں سے بھولے ایک بھی نہیں تھے۔ خدا کو جھوٹا سمجھا اور شیطان کو سچا اور دوست مان کر درخت ممنوعہ چکھ لیا۔ بینوا توجروا۔

جواب

حضرت آدم علیہ السلام کو جس وقت شیطان نے اکل شجرہ کی ترغیب دی تو اس وقت یہ باتیں دونوں یاد تھیں۔ ممانعت بھی عداوت شیطان بھی۔ لہذا اس کے کہنے کو قبول نہیں فرمایا جس پر شیطان نے وجہ ممانعت اپنی خیر خواہی کو بیان کیا اور قسم کھائی مگر اس کی قسم کی بھی تصدیق نہیں فرمائی حتی کہ زمانہ دراز گذر گیا اور ممانعت کو بھول گئے اتنی بات ذہن میں ضرور رہ گئی کہ ملائکہ کو بہت سی فضیلتیں حاصل…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو