جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ کی تفسیر
سوال
وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ میں الَّذِيْنَ اتَّبَعُوکَ سے مراد تقریباً سارے مفسرین نے عیسائی اور مسلمان لئے ہیں۔ لیکن آج کل قرآن کی یہ حقیقت اپنی صداقت کھو بیٹھی ہے اور سیاق و سباق میں الذين کفروا سے اسرائیل ہی کی تخصیص کر دیا ہے۔ اگر کافرین سے مطلق مراد لیا جائے تو عالمگیر پیمانہ پر مسلمانوں کی پستی مسلم ہے۔ نہیں تو بعد التخصیص اسرائیل سے مسلمانوں کی پستی واضح ہے۔ مفسرین الذين كفروا سے عیسائی بھی مراد لیتے ہیں۔
جواب
اگر مفسرین کی لکھی ہوئی کوئی بات آپ کی سمجھ میں نہ آئے یا آپ کی معلومات پر منطبق نہ ہو تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ آج کل قرآن کی حقیقت اپنی صداقت کھو بیٹھی ہے“ کہاں تک درست ہے اور آپ غور کریں کہ اس سے ایک مومن کا ایمان کس حد تک مجروح ہو جاتا ہے۔ قرآنی صداقت جس قلب سے کھو جائے کیا وہ قلب بھی مسکن ایمان رہے گا۔ ایسے کلمات کے کہنے اور لکھنے سے کلی اجتناب لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔