الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نام بدل کر نکاح

سوال

زید کے گواہوں کو اس لڑکی ہندہ کا نام خالدہ بنت ولید بتلایا حالانکہ وہ ہندہ بنت بکر تھی یا یہ کیا کہ ہندہ بنت بکر کا نام زینب بنت بکر بتایا یعنی اس کے نام کے بجائے اس کی بہن کا نام لیا اور گواہ چونکہ نہ ہندہ سے واقف تھے اور نہ زینب وخالدہ سے اس لئے وہ کچھ نہ جان سکے کہ کون ہے البتہ چونکہ ہندہ سامنے بے نقاب یا آنکھوں پر پٹی باندھ کر آئی تھی اس لئے اس کے کل یا بعض چہرہ کو پہچان گئے تھے اور انہوں نے اس کا چہرہ دیکھا تھا تو کیا ایسی صورت میں نکاح کا انعقاد ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا.

جواب

اگر گواہوں نے اس کو دیکھ کر پہچان لیا ہے تو نکاح صحیح ہے زوجہ یا اس کے والد کا نام غلط لینے سے کوئی اثر نہیں ہوگا۔ غلط وكيلها بالنكاح في اسم ابيها بغير حضورها لم يصح للجهالة وكذا لو غلط فى اسم بنته الا اذا كانت حاضرة واشار اليها فيصح اھ در مختار قوله الا اذا كانت حاضرة الخ راجع الى المسئلتين اى فانها لوكانت مشارا اليها وغلط فى اسم ابيها او اسمها لا يضر لان تعريف الاشارة الحسية…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو