نکاح فاسد وباطل
سوال
ایک شخص کی زبان سے کلمہ کفر نکلا اس کے بعد اس نے تجدید ایمان ونکاح کیا مگر نکاح کی صورت یہ ہوئی کہ ایک شخص کے سامنے اس نے اپنی اہلیہ سے یہ کہا کہ میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں تمہیں نکاح منظور ہے عورت نے جواب دیا کہ مجھے منظور ہے الفاظ ایجاب وقبول اس شخص نے سنے اور اس شخص نے مسجد میں جا کر دو گواہوں کے روبرو کہا کہ عورت نے میرے سامنے کہا ہے کہ مجھے مثلاً زید سے نکاح منظور ہے اور ہاں راضی ہوں چنانچہ اس شخص نے ان ہی دو گواہوں کے سامنے زید کا نکاح کردیا یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟
جواب
صورت مسئولہ میں عورت نے نکاح کی اجازت دیدی ہے گویا کہ اس مرد کو نکاح کا وکیل بنا دیا ہے تو وکیل بالنکاح کے لئے شہادت شرط نہیں کما فی رد المحتار ص ۴۱۹ ج ۲ پس جن گواہوں کے رو برو نکاح پڑھایا ہے اگر وہ اس عورت کو پہلے سے پہچانتے ہیں تو شرعاً نکاح صحیح ہو گیا یا ان کے سامنے عورت کا نام اور اس کے باپ کا نام اس طرح لیا گیا ہو جس سے وہ متمیز ہوگئی تب بھی درست ہو گیا اگر گواہ پہچانتے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔