الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کی جگہ دوسری لڑکی کا نام لیا نکاح نہیں ہوا

سوال

میری شادی کی منگنی معروف طریقہ پر ہوئی، پھر مقررہ تاریخ میں بارات گئی۔ ہمارے خسر طفیل احمد صاحب کی دولڑکیاں ہیں۔ بڑی لڑکی مسماۃ رخسانہ خاتون جو قریب البلوغ ہے جس سے میری شادی کی نسبت طے ہوئی تھی۔ دوسری چھوٹی لڑکی کا نام عمرانہ ہے۔ نکاح خواں نے بوقت نکاح ولی سے اجازت نہیں لی اور نہ کسی وکیل کا پتہ چلا، بلکہ مجمع میں سے ایک دو آدمیوں نے کہا کہ نکاح پڑھاؤ۔ نکاح خواں نے بوقت قبولیت بجائے رخسانہ خاتون بنت طفیل احمد کہنے کے ریحانہ خاتون بنت طفیل احمد کہا اور میں نے قبول بھی کر لیا۔

جواب

آپ کی منگنی رخسانہ خاتون سے طے ہوئی تھی،مگر اس کا آپ سے ایجاب وقبول نہیں کرایا گیا تو اس کا آپ سے نکاح نہیں ہوا۔ اگر وہ رخصت ہو کر آپ کے یہاں آئی تو غلط آئی۔ آپ اس سے الگ رہیں، یہاں تک کہ کم از کم دو ۲/آدمیوں کے سامنے ایجاب وقبول ہو جائے تو آپ کا اس سے شرعاً نکاح درست ہو جائیگا۔ عمرانہ سے نہ آپ کی منگنی ہوئی نہ ایجاب وقبول ہوا نہ وہ رخصت ہو کر آئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو