الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دو بہنوں کا عقد دو بھائیوں سے، رخصتی میں ادل بدل

سوال

دو بہنوں کا عقد دو بھائیوں سے ہوا اور ایک ہی ساتھ ہوا اور غلطی یہ ہوگئی کہ جس لڑکے کی شادی جس لڑکی سے ہوئی وہ لڑکی دوسرے لڑکے کے پاس رہ کر آپس میں شوہر وبیوی کے تعلقات ہو گئے اور دوسری کے تعلقات دوسرے لڑکے سے زن وشوہر کے ہوئے۔ صبح کو معلوم ہوا کہ جس لڑکی کا عقد جس لڑکے سے ہوا تھا غلطی سے ادل بدل ہو گئی، تو اس بارے میں حکم شرعی بتلائیے۔

جواب

اس غلطی کے اصلاح کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ جس سے عقد ہوا ہے اس کو اس سے طلاق دلوادی جائے اور ہر ایک اپنا مہر معاف کر دے۔ پھر جو جس کے پاس غلطی سے پہنچ گئی اور مغالطہ میں تعلق بھی ہو گیا اس کا اس سے عقد کر دیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو