نکاح میں غلطی سے بڑی شادی شدہ لڑکی کا نام لینے سے نکاح کا حکم
سوال
زید کے یہاں دولڑکیاں ہیں۔ بڑی لڑکی کا عقد پہلے ہو چکا تھا مگر شوہر کی نالائقی کی وجہ سے قریباً آٹھ سال سے بڑی لڑکی بھی ماں باپ کے یہاں ہے۔ اب زید نے اپنی چھوٹی لڑکی کا نکاح بکر کے ساتھ کیا مگر سہواً نکاح خوانی کے وقت وکیل اور گواہان کو جو نام بتلایا گیا وہ بجائے چھوٹی کے بڑی لڑکی کا بتلا دیا اور ناکح نے یہی نام لے کر ایجاب وقبول دلہا کو کرا دیا۔ نکاح خوانی کے رجسٹر پر جس وقت دلہن نے دستخط کئے تو اس غلطی کا احساس ہوا کہ نام صحیح نہیں۔ اس صورت میں یہ نکاح چھوٹی لڑکی کا بکر کے ساتھ صحیح ہو گیا کہ نہیں؟
جواب
اگر نکاح کے وقت بڑی لڑکی کا نام لیکر قبول کرایا گیا جس کا پہلے نکاح ہو چکا ہے اور اب والد کے گھر پر ہے تو یہ نکاح کسی کا بھی نہیں ہوا۔ بڑی کا تو اس لئے کہ وہ محل نکاح ہی نہیں کیونکہ وہ شادی شدہ ہے یا چھوٹی کا اس لئے کہ اس کا نام لیکر قبول نہیں کرایا گیا ہے اس لئے دوبارہ نکاح کرایا جائے اس کے لئے چند گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کافی ہے۔ رجسٹر نکاح میں بھی اندراج صحیح کرایا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔