ہندہ کا نکاح دوسری عورت کی اجازت سے
سوال
ہندہ کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کیا گیا۔ وکیل اور گواہ سب اجازت لینے گئے، تو ہندہ کے بجائے دوسری عورت نے کہہ دیا کہ نکاح پڑھا دیا جائے۔ بعدہ اس شخص کے ہمراہ چلی گئی اور صرف دورات وہاں رہی۔ اس بات کو تقریباً دو سال ہو گئے ہیں۔ اب ہندہ وہاں جانے کے لئے تیار نہیں کہتی ہے کہ میرا نکاح اس سے نہیں ہوا تھا، میں نے اجازت نہیں دی تھی۔ تو کیا عند الشرع ہندہ کا نکاح معتبر ہے یا بغیر اجازت نکاح ہوا ہی نہیں تھا۔ جبراً دورات وہاں گزاری تھی۔ نیز ہندہ کو دوسرا نکاح کرنے میں پہلے زوج سے طلاق کی ضرورت ہوگی یا نہیں؟
جواب
اگر ہندہ نے نکاح کے وقت اجازت نہیں دی بلکہ دوسری عورت نے اجازت دی تو وہ اجازت معتبر نہیں۔ پھر نکاح ہونے کے بعد جب ہندہ کو خبر ہوئی اور اس نے انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ مجھے یہ نکاح منظور نہیں تو شرعا وہ نکاح نہیں ہوا۔ پھر اگر اس کو ظلماً وزبردستی بھیجا گیا اور وہ انکار کرتی رہی اور وہاں پہونچ کر بھی ہندہ نے کہدیا کہ میں نے اس نکاح کو نامنظور کر دیا، میرا نکاح نہیں ہوا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔