نکاح میں ایک بہن کی جگہ دوسری کا نام لیا گیا
سوال
انوار احمد کا نکاح صفیہ بیگم سے ہونا تھا مگر بوقت نکاح منجانب ولی اندراج رجسٹر میں بجائے صفیہ بیگم کے ذکیہ بیگم لکھایا گیا اور اسی نام سے ایجاب وقبول ہو گیا۔ بعد ایجاب وقبول رجسٹر میں صفیہ بیگم نے اپنا نام لکھا تو لوگوں کو تنبہ ہوا۔ وکیل عقد نے آ کر بتایا غلطی ہو گئی ہے۔ لہذا قاضی نکاح خواں نے رجسٹر میں بھی اصلاح کر دی اور بغرض تصحیح نوشتہ کو بھی بتلا دیا کہ ذکیہ بیگم نہیں بلکہ صفیہ بیگم زوجہ کا نام ہے اور عوام کو بھی بروقت اس کی تصحیح کی اطلاع کر دی گئی۔ تو اس نکاح میں کوئی خلل تو واقع نہیں ہوا؟
جواب
اگر صفیہ بیگم کی جگہ ذکیہ بیگم کا نام لیکر ایجاب وقبول کرا دیا گیا ہے اور یہ دونوں بہنیں ہیں تو نکاح ذکیہ بیگم کا ہوا ہے صفیہ بیگم کا نہیں ہوا ہے ایسی حالت میں صفیہ بیگم سے تعلق زوجیت قائم کرنا جائز نہیں۔ اگر صفیہ بیگم سے تعلق قائم کرنا ہے تو انوار احمد کو چاہئے کہ وہ ذکیہ بیگم کوطلاق دیدے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔