لفظ اجرت سے نکاح
سوال
مسماۃ ہندہ نے جو عاقلہ بالغہ ثیبہ بیوہ ہے اور عمر اس کی بیس سال سے متجاوز ہے، زید نے ایک مختصر سا کام کیا زید نے بعد انجام دہی ہندہ سے مذاقاً کہا کہ مجھ کو اس کی اجرت چاہئے جو خاص خصوصیت رکھتی ہو اس وقت ہندہ نے بہت خوش ہو کر کہا کہ اس صلہ میں مجھ کو لے لیجئے میں نے اپنے ہی کو آپ کے حوالہ کیا تب زید نے کہا کہ خوب مضبوط ہو کر کہو پھر ہندہ نے اور بھی مستعدی اور مضبوطی سے پرزور الفاظ میں کہا اور زید نے اس قول کو ہندہ سے بار بار کہہ کر تین چار دفعہ کہلوایا اور ہندہ نے ہر بار اقرار کیا اور زید قبول کرتا رہا اور یہ واقعہ…
جواب
(۱) وہ کام یہ تھا کہ ہندہ نے زید کو دوسیر کی مٹھائی دی اور کہا کہ اس کو فلاں بزرگ کے نام فاتحہ پڑھ دو اس نے پڑھ دیا تھا پس واقعہ اجرت لینا مقصود بھی نہ تھا۔ (۲) اس کام کی نہ کوئی اجرت ہو سکتی ہے نہ کوئی تذکرہ تھا نہ ضرورت ہی تھی نہ لینا مقصود تھا دونوں کے ذہن میں اجرت لینے دینے کا بالکل خیال نہ تھا یہ کام تو تبرعاً واحسانا کیا بعد میں محض مذاقاً اجرت کو کہا تھا نہ اجرت ٹھہری…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔