نکاح کا اقرار کافی نہیں
سوال
ہندہ اور زید کے درمیان تین چار سال سے محبت کا خط خطوط تھا اور ہندہ نے بعض خطوط میں یہ لکھا تھا کہ میں آپ ہی کو خاوند بناؤں گی اور بعض میں یہ کہ آپ کو شوہر بنانا چاہتی ہوں اور اکثر خطوں میں اس نے زید کو خاوند سے تعبیر کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی اظہار کیا ہے کہ آپ اور میرے درمیان نکاح منعقد ہو چکا ہے کیوں کہ اس کو معلوم تھا کہ جوخطوط اس نے زید کے پاس بھیجے تھے ان کو زید نے دو تین بالغ عاقل آدمیوں کے سامنے پڑھ کر اس کو تین بار آدمیوں کے سامنے قبول کر لیا ہے یہ کہہ کر کہ میں اس کو اپنی زوجیت میں قبول کرتا ہوں۔
جواب
الفاظ بالا میں آپ ہی کو خاوند بناؤں گی، آپ کو شوہر بنانا چاہتی ہوں، آپ اور میرے درمیان نکاح منعقد ہو چکا ہے، نکاح کے لئے ایجاب نہیں پہلے اور دوسرے الفاظ سے خواہش ظاہر کی ہے، تیسرے الفاظ سے اقرار کیا ہے جو کذب ہے۔ انشاء عقد کے لئے کوئی لفظ نہیں۔ نیز خاوند سے تعبیر کرنا بھی ایجاب کے لئے کافی نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔