نکاح بشکل معمہ
سوال
مسمی زید کی سوتیلی ماں مع اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے علیحدہ مکان میں رہتی ہے اور ان کے تعلقات مسمی بکر کے گھرانے سے خوشگوار تھے اور بکر کا لڑکا جس کے دوستانه مراسم زید کے سبب سے سوتیلے بھائی سے تھے اور کچھ دنوں تک اس کو ٹیوشن بھی پڑھایا تھا جس کی وجہ سے کثرت سے آمد ورفت رہتی تھی اور اسی سبب سے دونوں گھرانوں میں پردہ کا بھی اہتمام نہ تھا۔ چند ماہ قبل مسمی بکر کا لڑکا جب ٹیوشن پڑھا چکا تو اس نے یہ چال چلی کہ معمہ حل کرانے کے بہانے سے ان کے گھر آ کر یہ معمہ لڑکی سے حل کرانے لگا، جس میں یہ تحریر تھی۔
جواب
اس جعل سازی سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوا۔ نکاح کے لئے گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول ضروری ہے۔ یہاں تحریر لکھتے اور دستخط کرتے وقت کوئی گواہ سامنے موجود نہیں تھا۔ اگر گواہ سامنے موجود ہوتے اور برضا ورغبت لڑکی تحریر لکھتی جس سے واقعہ نکاح کرنا مقصود ہوتا اور لڑکا بھی اس پر دستخط کر دیتا اور گواہ بھی دستخط کر دیتے مگر زبان سے ایجاب وقبول کے الفاظ ادا نہ کئے جاتے اور سب کارروائی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔