نکاح بذریعہ تحریر
سوال
ایک نابالغ لڑکی نے جو برادری کے اعتبار سے انصاری ہے اس نے بنا کسی جبر ودباؤ اور لالچ کے بخوشی ایک بالغ شادی شدہ لڑکے صدیقی کے پاس یہ تحریر بھیجی کہ میں فلاں بنت فلاں نے اپنا نفس فلاں بن فلاں کے نکاح میں اتنے مہر پر دیدیا۔ لڑکے نے لڑکی کی اس تحریر کو دو گواہوں کے سامنے پڑھ کر سنائی اور کہا کہ یہ تحریر فلاں بنت فلاں نے اپنے نکاح کے لئے میرے پاس بھیجی ہے اور ان گواہوں کے رو برو لڑکے نے لڑکی کو اپنے نکاح میں قبول کر لیا۔ کیا یہ نکاح صحیح درست ہو گیا؟
جواب
شرعاً یہ نکاح صحیح ہو گیا۔ نکاح اور ہمبستری کے بعد لڑکی کا اپنی تحریر سے انکار شرعاً معتبر نہیں، شوہر کو بھائی کہنے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔