الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لفظ جان بخشی سے نکاح، غیر عادل لوگوں کی گواہی نکاح میں

سوال

احمد ابراہیم صوفی ایک لڑکی مسلمہ باکرہ مسماۃ حافظہ بی بی کو بہکا کر کسی گاؤں میں لے گیا اور اس گاؤں کے امام مسجد سے کہا کہ ہم دونوں کا نکاح پڑھا دیجئے امام موصوف نے انکار کیا کہ میں ایسے جھگڑے کے نکاح نہیں پڑھاتا ہوں، چنانچہ امام صاحب کے اس انکار کی وجہ سے مذکورہ لڑکی نے دو مرد اور دو عورتوں کے سامنے احمد ابراہیم صوفی کو اپنی ذات بخشدی مگر مہر کا ذکر اور تسمیہ اس مجلس میں نہ ہو منجملہ ان دو مردوں کے ایک ان میں سے ناکح احمد ابراہیم صوفی کا پھوپھی زاد بھائی اور دوسرے رشتہ سے سالہ یا بہنوئی ہوتا ہے اور مذکورہ…

جواب

(الف) کسی لڑکی کو بھگانا بڑی بے غیرتی اور کمینہ پن ہے۔ سوال میں عقد نکاح کے متعلق محض جان بخشی کا تذکرہ ہے۔ اگر محض لڑکی نے اپنی جان بخشدی اور احمد ابراہیم صوفی نے جواب میں کچھ نہیں کہا بلکہ سکوت اختیار کیا تو نکاح منعقد نہیں ہوا۔ اگر با قاعدہ طرفین سے ایجاب وقبول ہوا ہے اگر چہ بجائے لفظ نکاح کے جان بخشی کا لفظ استعمال کیا گیا ہو تو نکاح منعقد اور صحیح ہو گیا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو