الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ٹیلیفون کے ذریعہ سے نکاح

سوال

ایک شخص امریکہ میں تعلیم پا رہا ہے وہ شادی کرنا چاہتا ہے ہندوستان آنے کیلئے بہت روپیہ اور وقت خرچ ہو گا اس لئے وہ چاہتا ہے کہ بذریعہ ٹیلیفون یا دوسرے ذریعہ سے نکاح کرے تو امریکہ میں چند معتبر لوگوں کے سامنے بذریعہ ٹیلیفون قبول کر سکتا ہے۔ کیا اس طرح نکاح درست ہو گا؟

جواب

جو شخص امریکہ میں ہے وہاں بذریعہ ٹیلیفون یا دیگر ذرائع (خط تار وغیرہ) سے کسی کو ہندوستان میں اپنا وکیل بنادے کہ وہ اس کی طرف سے فلاں لڑکی کے نکاح کو قبول کر لے۔ پھر یہاں مجلس نکاح منعقد کی جائے اور قاضی صاحب یالڑکی کے والد وغیرہ جو بھی نکاح پڑھائیں وہ کہیں کہ میں نے فلاں لڑکی کا نکاح فلاں شخص سے جو کہ امریکہ میں ہے کیا اور وکیل کہے کہ میں نے اس لڑکی کو فلاں کے نکاح میں قبول…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو