الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لڑ کی خدا واسطے دیدی کہنے سے نکاح ہوگا یا نہیں؟

سوال

زید نے اپنی دختر ہندہ جس کی عمر تقریباً چار پانچ سال کی ہے زید نے اپنے ہوش وعقل کے ساتھ یہ الفاظ کہے۔ کہ میں نے اپنی دختر مسماۃ ہندہ خالد کے پسر کو اللہ واسطے دیدی ہے۔ خالد نے اسی مجلس میں اپنے پسر کے لئے قبول کیا۔ آیا عند الشرع صورت مسئولہ میں نکاح درست ہے یا نہیں؟

جواب

یہ الفاظ کہ میں نے اپنی دختر ہندہ کو خالد کے پسر کو اللہ واسطے دیدی ہے، کنایات نکاح میں سے ہیں اگر بہ نیت نکاح یہ الفاظ کہے ہیں یا کوئی دوسرا قرینہ وغیرہ نکاح پر موجود ہے اور اس مجلس کو عقد نکاح سمجھا گیا ہو اور گواہوں نے بھی یہی سمجھا ہو کہ ان الفاظ سے مقصود نکاح ہے تو شرعاً نکاح منعقد ہو گیا ورنہ نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو