نماز عید کے بعد تکبیر تشریق
سوال
بعد العید تکبیرات تشریق جو عام امصار اور قریہ کبیرہ جہاں جمعہ فقہ حنفی سے ہونا صحیح ہے متروک ہو ہمارے علماء دیو بند کیا فرماتے ہیں۔ (عقب کل فرض عینی) شمل الجمعة وخرج به الواجب كالوتر والعيدين والنفل وعند البلخيين يكبرون عقب صلوة العيد لادائها الجماعة كالجمعة وعليه توارث المسلمين فوجب اتباعه ولا بأس به عقب العيد لان المسلمين توارثوه فوجب اتباعهم وعليه البلخيون الخ. (شامی ص ۷۸۶)
جواب
صلوة عيد الاضحی کے بعد بھی علماء دیو بند تکبیر تشریق کہتے ہیں، کہنے کے لئے فرماتے ہیں کتب فقہ رد المحتار اور البحر الرائق وغیرہ سے اس وقت تکبیر تشریق کا وجوب راجح معلوم ہوتا ہے کیونکہ جماعت کے ساتھ یہ نماز بھی ادا کی جاتی ہے اگر چہ خود فرض نہیں، اس کو علامہ شامی نے اختیار کیا ہے اور صاحبین کے نزدیک تو اہل قرئی پر اور منفرد پر بھی ہے جیسا کہ الجوہرة النيرة وغیرہ میں ہے اور اس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔