تکبیر تشریق عورت، دیہاتی، منفرد پر / مکرمی مفتی صاحب السلام عليكم
سوال
مولانا اشرف علی صاحب نے بہشتی زیور گیارہواں حصہ یعنی بہشتی گوہر میں تحریر فرمایا ہے کہ تکبیر تشریق واجب ہے ان پر جنہوں نے فرض عین نماز کو جماعت مستحبہ سے ادا کیا ہے بشرطیکہ وہ مصر میں ہوں یعنی مصر میں ہونا شرط ہے معلوم ہوا کہ گاؤں والوں پر تکبیر تشریق بعد نماز فرض عین بالجماعة المستحبة واجب نہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ مسافر اور عورت جب کہ وہ مقتدی ہو امام مقیم بمصر کے تو ان پر بھی واجب ہے اور اگر منفرد ہو یا عورت و مسافر مقتدی امام مقیم بمصر نہ ہو تو ان پر واجب نہیں لیکن اگر وہ بھی کہہ لیں تو بہتر ہے کیونکہ صاحبین…
جواب
امام صاحب اور صاحبین کے قول کو نقل کر کے بہشتی گوہر کے حاشیہ پر لکھا ہے اس مسئلہ میں فتوی صاحبین کے ہی قول پر ہے اس لئے گاؤں والوں پر بھی تکبیر تشریق واجب ہے، قال في البحر الرائق ص ۲/۱۶۶، واما عند هما فهو واجب على كل من يصلى المكتوبة لانه تبع لها فيجب على المسافر والمرأة والقروى قال في السراج الوهاج والجوهرة والفتوى على قولهما في هذا ايضاً فالحاصل ان الفتوى على قولهما في آخر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔