الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خطبہ میں تکبیر پڑھنا

سوال

زید نے عید کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا۔ جب تکبیر یعنی اللہ اکبر الله اکبر آئی تو زید نے تکبیر پڑھی اور زید کے ساتھ تمام مقتدیوں نے بھی پڑھنی شروع کی زید نے کہا کہ تم جہر کے ساتھ مت پڑھو۔ کیوں کہ یہ منع ہے اس پر کوئی معترض کہتا ہے کہ تم نے غلط کہا تو دریافت طلب بات یہ ہے کہ سری و جہری تکبیر میں کچھ فرق ہے یا نہیں اور دونوں کا کیا حکم ہے؟

جواب

سب کو خاموشی کے ساتھ خطبہ سننا چاہئے ایسے وقت میں سامعین کو کچھ تکبیر وغیرہ کہنا منع ہے۔ اذا خرج الامام فلاصلوة ولا كلام والصواب انه يصلى على النبي صلى الله عليه وسلم عند سماع اسمه في نفسه ولا يجب تشميت ولارد سلام. به يفتى، وكذا يجب الاستماع لسائر الخطب كخطبة نكاح وخطبة عيد وختم على المعتمد اھ در مختار ص ۱/۸۰۷۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو