جمعہ کی اذان ثانی کا مقام اور محمد بن اسحاق کا حال
سوال
سنن ابوداؤد شریف کی وہ حدیث کہ جس میں اذان علی باب المسجد کا ذکر ہے، اس کی سند میں جو محمد ابن اسحاق ہے وہ کذاب اور دجال ہے یا نہیں؟ اور حدیث مذکور قابل عمل ہے یا متروک العمل؟ (۲) اگر کوئی مولوی راوی مذکور یعنی محمد بن اسحاق کو کذاب و دجال کہے اور پھر اس پر اصرار کرے تو شریعت مطہرہ کی طرف سے اس قسم کے مولوی پر کیا حکم عائد ہو گا۔ (۳)
جواب
محمد ابن اسحاق کے متعلق اصحاب جرح و تعدیل میں اختلاف ہے۔ بعض حضرات نے اس کو کذاب بھی کہا تھا۔ اور دوسرے حضرات نے اس کو امام المغازی بھی لکھا ہے۔ راجح قول یہ ہے کہ مغازی وسیر میں ان کی روایت مطلقاً معتبر ہے چنانچہ مسلم، ترمذی، ابوداؤد، نسائی نے ان کی حدیث لی ہے۔ امام بخاری نے تعلیق میں روایت لی ہے۔ امام احمد اور منذری نے اس کو حسن الحدیث فرمایا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔