الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اذان خطبہ مسجد میں

سوال

مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے جمعہ کی اذان ثانی کا مسئلہ اٹھایا تھا کہ یہ اذان مسجد سے باہر دینی چاہئے حضرت مفتی مہدی حسن صاحب شاہ جہاں پوری رحمہ اللہ اور مولانا معین الدین صاحب اجمیری رحمہ اللہ نے ان کی تردید میں رسالے لکھے جو نایاب ہیں اگر یہ رسارے دستیاب ہو جائیں تو قیمہ بذریعہ وی، پی، ارسال کرا دیئے جائیں۔

جواب

اذان کے لیے اعلیٰ بات یہ ہے کہ بلند جگہ پر بلند آواز سے کہی جائے کیونکہ وہ اعلام غائبین کیلیے ہے جتنی دور تک آواز جائے گی وہاں کے حجرو مدر گواہی دیں گے اور شیطان بھی دور تک بھاگتا جائے گا مسجد میں اذان دینے سے زیادہ دور تک آواز نہیں جائے گی وہیں گھٹ کر رہ جائے گی مقصد اذان پورے طور پر حاصل نہیں ہو گا اس لیے مسجد میں اذان کو بعض حضرات نے مکروہ لکھا ہے یہ بات نہیں ہے کہ اذان…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو