الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جمعہ کے روز اذان خطبہ کا مقام

سوال

(۱) جمعہ کی اذان ثانی جو منبر کے سامنے ہوتی ہے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مسجد کے اندر ہوتی تھی یا باہر؟ (۲) خلفاء راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے زمانے میں کہاں ہوتی تھی؟ (۳) فقہاء حنفی کی معتمد کتابوں میں مسجد کے اندر اذان دینے کو منع فرمایا ہے اور مکروہ لکھا ہے یا نہیں؟ (۴) اگر رسول اللہ ﷺ اور خلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے زمانے میں اذان مسجد کے باہر ہوتی تھی اور ہمارے اماموں نے مسجد کے اندر اذان کو مکر وہ فرمایا ہے تو ہمیں عمل اس پر لازم ہے یا رسم و رواج پر؟

جواب

۱۔ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ مبارک میں یہی ایک اذان جمعہ کے لیے باب مسجد پر ہوتی تھی۔ كَانَ يُؤَذِّنُ بَيْنَ يَدِي رَسُولِ اللهِ ﷺ إِذَا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا الخ (أبوداؤد شریف ص ۱۶۲ / ج ۱)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو