اذان خطبہ کا محل
سوال
خطبہ جمعہ کی اذان کے متعلق سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے حدیث میں دوروایت ہیں ایک میں علی باب المسجد کا لفظ نہیں اور فقہاء کرام نے اس کو نقل بھی فرمایا ہے، اور سنن ابی داؤد کے ص ۱۵۶ ء میں جو حدیث محمد ابن اسحاق سے مروی ہے اس میں علی باب المسجد کا لفظ ہے مگر فقہاء کرام اس کو نقل نہیں فرماتے تو محمد ابن اسحاق راوی میں کونسا عیب ہے جس کی وجہ سے فقہاء کرام نے اپنی کتابوں میں دروازے پر کا لفظ نہیں لکھا اور بین یدی کا لفظ منبر پر سے کتنی دور تک اطلاق کر سکتا ہے۔
جواب
اس لئے راوی پر کلام کرنے کی ضرورت نہیں۔ محمد بن اسحاق کا ترجمہ تہذیب التہذیب جلد ۲ر میں ص ۴ر پر لکھا ہے اصحاب جرح و تعدیل کے دونوں قسم کے اقوال ان کے متعلق نقل کئے ہیں پھر ہدایہ اور شرح ہدایہ میں اس اذان کا محل بین یدی الخطیب لکھا ہے اور اسکی دلیل میں توارث کو پیش کیا اور صحابہ کرام سے جو امر متوارث ہو وہ بحکم تواتر ہے اس لئے انکار کی گنجائش نہیں خود اس مسئلہ پر فریقین کے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔