جمعہ کی اذان ثانی مسجد میں
سوال
جمعہ کے دن اذان ثانی جو خطیب کے سامنے ہوتی ہے، اندرون مسجد یہ اذان دینا کیا مکروہ تحریمی ہے۔ ہمارے شہر لکھیم پور میں کچھ بدعتی حضرات نے یہی استفتاء علماء رضا خانیوں سے کتب احادیث تصنیف کردہ مولانا احمد رضا خاں کے حوالہ جات سے جواب کافی وشافی طلب کر کے شہر میں مشتہر کرائی جس کی وجہ سے ایک انتشار ہو گیا۔
جواب
پنج گانہ اذان کا مقصد عظیم اعلام غائبین ہے، اسلیے اس میں مستحب یہ ہے کہ بلند جگہ پر بلند آواز سے اذان دی جائے تا کہ دور تک آواز پہونچے اور کثیر تعداد میں لوگ آواز سن کر نماز کے لئے آسکیں، اندرون مسجد کہنے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے فقہاء نے مسجد میں اذان کو ممنوع فرمایا ہے شرحبیل بن عامر رضی اللہ عنہ مینارہ پر اذان دیا کرتے تھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔