الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اذان بین یدی الخطیب کو دائیں بائیں ہٹ کر کہنا

سوال

جمعہ کی اذان ثانی اگر بین یدی الخطیب نہ ہو بلکہ ایک دوگز بائیں یا دائیں ہٹ کر ہو تو خلاف سنت ہوگی یا نہیں؟ بصورت اولی مکروہ تنزیہی یا تحریمی یا حرام ہوگی یا کیا، اور یہ موذن کس درجہ کا خاطی ہوگا۔

جواب

اس طرح بھی اذان درست ہے معمولی دائیں بائیں ہٹ کر ہونے سے بھی خلاف سنت نہیں اور مکروہ نہیں۔ فكونه بين يديه عام شامل لما كان في محاذاته أو شيئاً منحرفاً الى اليمين أو الشمال أو يكون على الارض أو الجدار اه بذل المجهود ص ۱۸۰ / ج ۱) اذا جلس الامام على المنبر اذن أذانا ثانياً بين يديه أي بين الجهتين المساويين ليمين المنبر او الامام ويساره قريباً منه ا ه جامع الرموز۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو