یا شیخ عبد القادر شیئاً للہ کہنا یا پڑھنا
سوال
ياشيخ عبد القادر شيئًا لله کا ترجمہ ومطلب کیا ہے؟ اسے لکھنا اور بطور وظیفہ پڑھنا کیسا ہے؟ یہ کلمہ کب اور کیوں جاری ہوا؟ اس کے محرک اول کون ہیں؟
جواب
اسمیں حضرت سید عبد القادر صاحبؒ سے کچھ اللہ کے واسطے مانگا گیا، سوال خودان ہی سے ہے اور اللہ جل جلالہ عم نوالہ کو وسیلہ بنایا گیا ہے، یہ طریقہ غلط ہے، برعکس ہو گیا مانگنا چاہیے تھا خدائے پاک مالک الملک سے اور وسیلہ بنالیا جاتا ہے اسکے مقبول بندے کو مگر یہاں معاملہ الٹا ہو گیا، یہ معلوم نہیں اس کا موجد کون ہے، اس کا وظیفہ نا جائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔