اعلیٰ حضرت کی فصاحت
سوال
بعض رضا خانی کہتے ہیں کہ حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی نور الله مرقدہ نے لفظ”آہو جو گوجروں کی زبان کا لفظ ہے استعمال فرمایا ہے اور یہ فصیح نہیں اور اعلیٰحضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی نے کبھی کوئی اس قسم کا لفظ استعمال نہیں کیا تو مولانا احمد رضا خاں صاحب زیادہ فصیح ہوئے، حضرت والا سے درخواست ہے کہ کیا لفظ ”آہو“ استعمال کرنا فصاحت کے خلاف ہے اور عوام کی دلجوئی کے خیال سے انکی زبان میں انکے انداز پران سے گفتگو کرنا کیا فصاحت کے خلاف ہے؟
جواب
مخاطب کی زبان اور اس کے محاورہ میں اگر کوئی لفظ بول دیا جائے تو اس پر اعتراض بے کار ہے۔ نیز اگر ایک دو لفظ غیر زبان کا بول دیا جائے تو اس پر بھی اعتراض بے کار ہے۔ بستان العارفین میں فقیہ ابواللیث سمرقندی نے بعض ایسے الفاظ لکھے ہیں جو عربی زبان کے نہیں مگر حدیث شریف میں موجود ہیں تمر یک یک عنب دو دو، اور اشکم درد اور کلموا الناس علی قدر عقولهم تو بہت مشہور ومعروف ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔