الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مباہلہ

سوال

آج کل اہل بدعت کی طرف سے گجرات بھر میں ایک بہت بڑا شور ہے اور جاہلوں کو بہکا پھسلا کر سر توڑ پھوڑ کرنے کی تجویز ہو رہی ہے۔ سوال کا مقصد صرف یہ ہے کہ جس طرح حضور اقدس ﷺ نے نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کا اعلان کر کے ان کو زیر کیا، اسی طرح اہل حق میں کوئی خدا کا بندہ تیار ہو کر مباہلہ کرنا چاہے تو آیا شریعت اس بارے میں اجازت دیتی ہے یا نہیں؟ اگر اجازت دیتی ہے تو اس کا طریقہ کیا ہے؟

جواب

مباہلہ کرنے کی اب نہ ضرورت ہے نہ اجازت ہے، دین مکمل ہو چکا ہے، ہر چیز کے دلائل تفصیل سے موجود ہیں جو گفتگو کی جائے دلائل کی روشنی میں کی جائے اور ان لوگوں سے تعرض کی ضرورت نہیں، ان کے اتہامات اور بہتانوں کی طرف کوئی توجہ نہ کریں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو