الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک خواب جس میں لا الہ الا اللہ فلاں رسول اللہ پڑھا

سوال

اگر کوئی شخص بجائے کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول الله کے لا اله الا الله اشرف على رسول اللہ پڑھے کیا وہ مسلمان رہے گا یا کافر ہو جائے گا، نیز مسلمانوں کو ورغلانے کیلئے اس کلمہ کو پڑھنے والا کس قسم کا گنہ گار ہوگا اور بہتان لگانے کا کیا کفارہ ہے اور کیا یہ کلمہ جناب مولانا اشرف علی صاحب نے کسی سے پڑھوایا ہے یا پڑھنے کی اجازت دی ہے اور امداد الفتاوی کے بارے میں تفصیل سے اگر تحریر فرمائیں گے تو عین نوازش ہو گی کہ حقیقت حال کیا ہے، بار بار غلط کلمہ پڑھنے والا مسلمان رہے گا یا نہیں چاہے ورغلانے کیلئے پڑھا جائے۔ فقط

جواب

حضور اقدس رسول مقبول محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الرسل ہیں۔ جو شخص آپ کے بعد کسی کو بھی رسول جانے وہ کافر ہے۔ یہ تمام اہل السنۃ والجماعۃ کا بلکہ تمام اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے۔ پس جو شخص حالت بیداری واختیاری میں قصداً یہ کلمہ پڑھے وہ کافر ہے، اسلام سے خارج ہے۔ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ اور تمام اکابر کا بھی فتویٰ ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو