الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صاف لفظوں میں امانت کہنا اور معاملہ گروی کا کرنا

سوال

(۱) ایک شخص مسمی حسن بھائی فاضل بھائی نے اپنی حیات میں چند مکانات مسمی عبدالرسول محمد عمر کے پاس رکھے، اور لکھا کہ یہ مکانات تمہارے پاس امانت رکھتا ہوں، اور عبدالرسول کا قرضہ حسن بھائی کے ذمہ تھا، اول حسن بھائی نے انتقال کیا، اس وقت ان کے حقیقی بھائی یٰسین بھائی کا لڑکا عمر بھائی اور بیوی عظیم بو چھوڑے، بعد میں عظیم بو نے انتقال کیا، انہوں نے ایک ابن ابی العم عمر بھائی مذکور الصدر اور دو علاتی بہن کی لڑکیاں بنت الاخت لاب عابدہ، زاہدہ چھوڑدیں، بعد میں عابدہ نے انتقال کیا، اس نے ایک لڑکا غلام نبی اور دو لڑکیاں مسماۃ…

جواب

(۱) صاف صاف لفظوں میں تو امانت کہا ہے، لیکن قرضہ ذمہ میں ہونا رہن کا قرینہ ہے، اس کے باوجود واپس نہ دینے کا اختیار نہیں، قرضہ کل ادائیگی اور مکانات کی واپسی لازم ہے، قانونی آڑ لے کر گروی مکانات کی واپسی سے مدت متعینہ گزر جانے پر آدمی سبکدوش نہیں ہو جاتا۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو