الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امین نے عیدگاہ کا روپیہ کاروبار میں لگا لیا

سوال

زاہد علی نے چار ہزار روپیہ عیدگاہ کے لئے چندہ کیا تھا، ابھی یہ روپیہ ان کے پاس تھا کہ انہوں نے اس کو کاروبار میں لگا دیا، عیدگاہ کا کچھ کام شروع ہوا تھا، کچھ بند ہوا کچھ ہوا، اب لوگوں نے ان کو کہا کہ تم حساب دو، مگر انہوں نے حساب نہیں دیا، ایسی صورت میں اب شرعاً کیا حکم ہے، کہ ان کا بائیکاٹ کرنا کیسا ہے؟ اگر ان کے پاس فوری طور پر روپیہ نہ ہو تو کیا کچھ حکم ہے؟

جواب

عید گاہ کے لئے جو روپیہ بطور چندہ جمع کر کے ایک شخص کے حوالہ کیا گیا تھا، وہ روپیہ امانت تھا، اور وہ شخص امین تھا، اس کو وہ روپیہ کاروبار میں لگانا جائز نہیں تھا یہ خیانت ہے، اور ایسا کرنے سے وہ شخص خائن ہوا، اس کے ذمہ روپیہ اور اس کا حساب دینا ضروری ہے اگر ترک تعلقات (حقہ پانی بند)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو