امانت میں تصرف جبکہ مالک لا پتہ ہو جائے
سوال
میرے پاس ایک شخص نے ۲۶۰ روپیہ امانت رکھا اور آج پندرہ برس ہوگئے، کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں گیا، تو کیا وہ امانت ہم کسی نیک کام میں لگا سکتے ہیں؟ بیت المال، مدرسہ یا کسی اور نیک کام میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ ضرورت مندوں کو دوسروں کی ذمہ داری پر قرض دے سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
اس امانت کو اسی طرح محفوظ رکھنا ضروری ہے، نہ مدرسہ میں دیں، نہ دوسرے ضرورتمند کو دیں، نہ قرض دیں، نہ صدقہ کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔