بیٹی کو چوڑیاں دیکر واپس لینا
سوال
ایک عورت اپنی بیماری میں بے ہوش و حواس اپنی سونے کی چوڑیاں اپنی لڑکی کو دیدیتی ہے، اپنے شوہر اور اپنے بڑے لڑکے کی موجودگی میں عورت کی اس بات پر ہر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے، عورت کا اسی بیماری میں انتقال ہوجاتا ہے، عورت کے سونے کی بٹن والد کے پاس رکھے ہوئے ہیں، عورت کے انتقال کے بعد باپ سونے کے بٹن اپنی مرضی سے بیٹی کو دے کر یہ مشورہ دیتا ہے کہ وہ چوڑیاں جو ماں کی تمہارے پاس ہیں، اس میں یہ بٹن اور کچھ سونا اپنے پاس سے ڈلواکر تم اپنی چوڑیاں بنوالو، باپ چوڑیاں، بٹن اور بیٹی کا کچھ سونا لے کر بیٹی کو نئی چوڑیاں…
جواب
ماں نے بیماری کی حالت میں سونے کی چوڑیاں اپنی بیٹی کو دی ہیں، پھر ماں کا اس بیماری میں انتقال ہوگیا، تو یہ بحکم وصیت ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر تمام ورثاء بالغ ہیں اور وہ اس پر رضامند ہیں تو بیٹی ان چوڑیوں کی مالک ہوگئی، اور ان چوڑیوں میں وراثت جاری نہیں ہوگی، ماں کے سونے کے بٹن جو والد کے پاس رکھے ہوئے تھے، وہ ترکہ میں داخل ہیں، ان میں جملہ ورثاء کا حصہ ہے، اگر تقسیم سے وہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔