کیا سزا کے عوض امانت کی رقم کاٹ لی جائے؟
سوال
زید نے اپنے بھائی بکر کے پاس ۲۷ ہزار روپیہ امانت رکھا بکر کے دل میں فتور آ گیا، اس نے چند آدمیوں کو بلا کر مار پیٹ کر کے رات کے وقت ایک فائر کیا محلہ والوں کو بتلایا کہ ڈکیتی پڑ گئی ہے، اور پولس میں بھی رپورٹ ڈکیتی درج کرائی، اور پولس نے آکر فوراً انکواری کی اور معلوم کیا یہ رقم کس کی تھی؟
جواب
بکر نے کمینہ حرکت کی اور بھائی کی امانت ضائع کرنے کی کوشش کی، ڈکیتی دکھلائی، پولس نے گرفتار کیا، سزا کاٹی، اب لازم ہے کہ بقیہ چھ ہزار کی رقم زید کو ادا کر دے، سزا کے عوض اس رقم کے رکھنے کا اختیار نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔