ختم قرآن وختم بخاری پر اجرت میں فرق
سوال
اب سوال یہ ہوتا ہے کہ کراہت تنزیہی ہے یا تحریمی، اور بزازیہ کی رائے کلی یا جزئی ہے کیونکہ ختم قرآن وبخاری علی وجہ اللہ تعالیٰ جب بالا جارہ جائز ہے، تو ضیافت مکروہ کیوں ہو، نیز وہ ضیافت جس میں ختم کرنے والے اصلاً اور اقارب وپڑوسی متبعاً مدعو یا برعکس ہو تو وہ مکروہ ہوگی یا نہیں؟ (۲) بیوی کو دردِ زہ میں مبتلا دیکھ کر شوہر یا دیگر رشتہ دار نے کہا کہ اگر اللہ میاں اس مصیبت سے نجات دے تو ختم قرآن کراؤ نگا، یا یوں کہا کہ اس مصیبت میں اللہ کے واسطے کچھ کرانا چاہئے، اس پر کسی نے کہا ختم یونس پڑھا لو، اس پر سب راضی ہو گئے،…
جواب
(۱) ختم بخاری شریف بطور علاج اور رقیہ کے ہے جس پر اجرت لینا درست ہے اور ختم قرآن ایصال ثواب کے لئے ہے، اور جب اجرت مقصود ہو تو تلاوت محضہ پر ثواب نہیں ملتا، یہ فارق ہے تفصیل ” شامی کتاب الاجارہ، نیز شرح عقود رسم المفتی میں ہے۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔