نماز کے بعد دعائے ثانیہ وثالثہ وفاتحہ مروجہ
سوال
ہمارے یہاں شافعی مسلک لوگ رہتے ہیں اور وہ ہر فرض نماز کے بعد تین تین دعائیں مانگتے ہیں، اور اس کو نماز ہی شمار کرتے ہیں گویا کہ جب تک وہ تین دعائیں ختم نہ ہو جائیں، نماز ہی پوری نہیں ہوتی، ان لوگوں نے دعاؤں کو فرض کا درجہ دے رکھا ہے۔ (۱) دعا امام سلام پھیر کر کعبہ کی طرف منہ کر کے ہی بآواز بلند اللَّهُمَّ انْتَ السَّلَامُ، پڑھتا ہے، امام مقتدیوں کی طرف منہ کر کے تسبیح پڑھتا ہے، پھر دعائیں پڑھتا ہے، اور تمام مقتدی آمین کہتے ہیں، اور ایک دعا (فاتحہ وغیرہ)
جواب
یہ طریقہ حدیث شریف سے ثابت نہیں اور اس کی اتنی پابندی کرنا (جیسا کہ سوالوں میں درج ہے) زبردست غلطی ہے جو چیز شریعت نے نماز نہیں بنائی، اس کو نماز سمجھنایا اس کے ساتھ نماز جیسا معاملہ کرنا اعتقادی وعملی غلطی ہے جو لوگ اس کے پابند ہیں غلطی پر ہیں، ہم اپنی طرف سے ثواب چاہے قرآن، نماز، تسبیح پڑھ کر ہو یا غریبوں کو صدقہ دے کر یا روزہ رکھ کر ہو غرض کوئی بھی نیک کام ہو درست اور مفید…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔