ختم خواجگان کی تاثیر
سوال
عرض یہ کہ آج سے تین سال قبل ۶۳ء میں گپتی کے تہوار پر شہر مالیگاؤں میں فساد ہو گیا تھا، جس میں مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانے پڑے تھے، ان کے علاوہ مسلمانوں ہی کو طرح طرح سے پریشان اور خوف زدہ بنا دیا گیا تھا اسی بے کسی سے متاثر ہو کر کچھ لوگوں نے بعد نماز مغرب مسجد میں آیت کریمہ کا دور شروع کر دیا تا کہ اس کی برکت سے شہر کے مسلمانوں کو اس آفت سے نجات ملے بعد نماز مغرب مسجد میں ختم خواجگان کے وظیفہ کا سلسلہ جاری کر دیا، جو آج تک جاری ہے، الحمد للہ ابتک دوسرا کوئی سانحہ دوبارہ نہیں ہوا، چونکہ اس عقیدے کے ماتحت یہ…
جواب
ختم خواجگان میں خلاف شرع کوئی چیز نہیں جیسا کہ ضیاء القلوب میں مذکور ہے، جو کچھ پڑھا جاتا ہے، اس کا بابرکت اور ثواب ہونا یقینی ہے جیسے سونے سے پہلے معوذتین وغیرہ پڑھ کر دم کرنا اور ہاتھ کا جسم پر ملنا احادیث سے ثابت ہے، اس قسم کا یہ بھی عمل ہے جو کہ اکابر کے تجربہ میں آیا ہوا ہے، اس لئے وقت ضرورت بطور علاج اس پر عمل کرنا درست ہے، مگر اس کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھا جائے، اگر یہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔